سنی علماء کونسل اہل سنت سے تعلق رکھنے والی جماعت ہے ۔ اس جماعت کا پرانا نام انجمن سپاہ صحابہ پھر سپاہ صحابہ پاکستان رہا ہے۔ یہ جماعت 1944ء میں امرتسر میں قائم ہونے والی "تنظیم اہلسنت مسلم تنظیم ہے۔ جو مسلمانوں کو شعیت سے بچانے اور ناموس صحابہ کرام کے دفاع کرنے کے لیے بنایی گئی۔جو 1984ء میں دیوبندی عالم نورالحسن بخاری کی وفات کے بعد انجمن سپاہ صحابہ کے نئے نام سے 1985ء میں پاکستانی پنجاب کے شہر جھنگ میں سامنے آئی۔ مولانا حق نواز جھنگوی شہید کو 1990ء میں شعیہ کے ناپاک عزائم خاک میں ملانے پر شہید کر دیا ۔مولانا حق نواز جھنگوی شہید کے بعد مولانا ایثار الحق قاسمی شہید اس جماعت کے سربراہ بنے، جنھیں 1991ء میں شہید کر دیا گیا۔ اس کے بعد مولانا ضیاء الرحمن فاروقی شہید نے سپاہ صحابہ کی قیادت سنبھالی لی۔ علامہ ضیاء الرحمن فاروقی 18 جنوری 1997ء کو سپاہ محمد پاکستان کے بم حملے میں شہید ہوئے۔اس کے بعد مولانا اعظم طارق شہید اس جماعت کے سربراہ بنے، جو 2003ء میں اسلام آباد میں شہید کر دیے گئے۔ سپاہ صحابہ کے اب تک کم وبیش ایک ہزار کارکن شہید کیے جا چکے ہیں جن میں سے اکثر شیعہ کے ساتھ مقابلوں میں شہید ہوئے۔ 2017ء میں اس جماعت پر دوبارہ پابندی لگا دی گئی، پھر 26 جون 2018ء کو سپاہ صحابہ پاکستان سے پابندی ہٹا لی گئی۔
حق نواز جھنگوی پاکستانی سنی عالم دین، مقرر،خطیب اور انجمن سپاہ صحابہ پاکستان کے بانی تھے۔ آپ 1952ء میں چاہ کچھی والا، موضع چیلہ، تھانہ مسن، ضلع جھنگ میں ولی محمد کے گھر پیدا ہوئے۔آپ نے پرائمری تک دنیاوی تعلیم حاصل کی۔پرائمری کے بعد اسی محلہ کے ایک مدرسے میں اپنے ماموں حافظ جان محمد سے عرصہ دو سال میں قرآن مجید حفظ کیا۔آپ نے تجوید کا کورس علم قرأت شیخاں والی مسجد خانیوال سے حاصل کیا۔ آپ نےپنجاب کبیروالا کے معروف دار العلوم سے تفسیر، حدیث، فقہ، ادب، تاریخ منطق، فلسفہ اور صرف ونحو کے علوم میں مہارت حاصل کی۔ آپ نے درس نظامی کا آخری سال دورہ حدیث جامعہ خیرالمدارس ملتان سے پاس کیا۔
چھ ستمبر،1985ء کو آپ نے انجمن سپاہ صحابہ کی بنیاد رکھی۔ جس کے ابتدائی اراکین کی تعداد 29 تھی۔ یہ جماعت صرف جھنگ کی سطح پر تھی جسے گورنمنٹ کی پالیسیوں کی خلاف ورزیوں کی وجہ سے 2002ء میں حکومت پاکستان نے ایک کالعدم تنظیم قرار دے دیا تھا۔ ۔22 فروری، 1990ء کی ایک سرد شام آپ کی آخری شام ثابت ہوئی جب آپ ایک قاتلانہ حملے میں شہید ہو گئے۔ آپ کی نماز جنازہ بروز جمعہ 23 فروری، 1990ء بعد نماز عصر جھنگ صدر کے جنوب مشرق میں واقع گورمنٹ اسلامیہ ہائی اسکول کے وسیع وعریض میدان میں عبد اللہ درخواستی نے پڑھائی۔آپ کو جامعہ محمودیہ جھنگ میں سپردخاک کیا گیا۔ آپ کے پسماند گان میں ایک بیوہ اور تین صاحبزادے اظہار الحق، حسنین معاویہ، مسرور نواز چھوڑے۔
ابو ریحان ضیاء الرحمن فاروقی 4 مارچ 1953ء خانیوال کی بستی سراجیہ اپنے ننھیال میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد کا نام مولانا محمد علی جانباز تھا جو تحریک مجلس احرار الاسلام کے سرگرم رہنما تھے۔ آپ کی ولادت کے وقت بھی وہ اسی سلسلے میں سکھر کی مرکزی جیل میں پابند سلاسل تھے۔ آپ نے ابتدائی تعلیم سراجیہ خانیوال سے حاصل کی۔ حفظ قرآن پاک جامعہ رشیدیہ ساہیوال سے کیا۔ مزید دینی تعلیم حاصل کرنے کے لیے آپ دار العلوم کبیروالا اور باب العلم کہروڑپکا سے منسلک رہے۔ اس کے بعد آپ جامعہ خیرالمدارس ملتان سے منسلک ہو گئے اور دورہ حدیث مکمل کیا۔ ساتھ ہی آپ نے بی اے کا امتحان جامعہ پنجاب (پنجاب یونیورسٹی)سے امتیازی نمبروں سے پاس کیا۔
آپ نے اپنی سیاسی زندگی کا آغاز جمیت علماء اسلام کے پلیٹ فارم سے کیا۔1970 کے عام انتخابات میں مفتی محمودؒ کی انتخابی مہم میں پیش پیش رہے۔ مفتی محمود کے وزیر اعلی بنے کے بعد آپ نے تین ماہ تک ان کے ساتھ کام کیا۔ اس کے بعد آپ جمیعت کے صوبائی قائد مقرر ہوئے۔
آپ نے دنیا کے تمام اہم ممالک کے تبلیغی و نتظیمی دورے کیے۔ اور ایک بین الاقوامی تنظیم "مسلم تنظیم اتحاد العالمی" قائم کی جس کا مقصد دنیا بھر کی غیر مسلم اقوام کوقرآن پاک کا آفاقی پیغام ان کی مادری زبانوں میں پہچانا تھا۔ اس ضمن میں اس تنظیم نے انگریزی،فارسی،جرمن،فرنچ اور دوسری کئی زبانوں میں لڑیچر کی اشاعت کرکے متعلقہ ممالک میں تقسیم کیا۔آپ نے مختلف موضوعات پر آپ کی 60 سے زائد کتب تالیف کیں۔ ان کی دو مشہور کتب"رہبرورہنما صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم" اور " فیصل ایک روشن ستارہ" کو علی الترتیب سعودی حکومت اور عالمی تحقیقی مرکز کی جانب سے انعامات سے نوازا گیا۔
آپ کی تمنا تھی کہ ایک اعلی معیار کی جامعہ قائم کی جائے جس کا مقصد ایسے عالم دین تیار کرنا ہوجو دنیا بھر کی غیر مسلم اقوام تک اسلام کا پیغام انھی کی زبانوں میں پہنچا سکیں۔ اس ضمن میں آپ نے جامعہ عمر فاروق اسلامیہ کو مزید توسیع دے کرعمر فاروق اسلامی یونیورسٹی قائم کرنے کا اراہ کیا۔ اس مجوزہ درسگاہ کے لیے آپ نے فیصل آباد روڈ پر 42 کنال جگہ بھی حاصل کرلی تھی مگر 20 نومبر 1995 کو آپ کو ایک مقدمے میں گرفتار کر لیا گیا۔ جس کے باعث یہ عظیم الشان منصوبہ پایہ تکمیل تک نہ پہنچ سکا۔
شہید کربلا سیدہ فاطمہ تاریخی دستاویز خطابات منبر و محراب خطبات فاروقی جواہرات فاروقی عائشہ صدیقہ ابوبکر صدیق عمر فاروق سیدنا عثمان غنی سیدنا علی المرتضی سیرت النبی رہبر و رہنما فیصل ایک روشن ستارہ
۔22فروری 1990 کو حق نواز جھنگوی کی شھادت کے بعد ضیاءالرحمن کو سپاہ صحابہ کا سرپرست اعلی مقرر کیا گیا۔ ان دنوں ضیاءالرحمن بنگلہ دیش کے تبلیغی دورے پر تھے۔ ضیاءالرحمن نے سپاہ کے پیغام کو ناصرف پاکستان بلکہ دوسرے ممالک تک پھیلانے کے لیے بھی بھرپور جدوجہد کی۔
سابق پاکستانی وزیر اعظم بے نظیر بھٹو ایک مخصوص مذہبی رجحان کی حامل ہونے کے باعث سپاہ صحابہ کے پیغام کی شدید ناقد تھیں۔ ان کے ا حکامات پر “مولانا ضیا ءالرحمن فاروقی“ اور اس وقت کے رکن قومی اسمبلی مولانا مولانا اعظم طارق شہید کو گرفتار کر لیا گیا۔فروری 1997ء میں آپ دونوں حضرات کی پیشی کے موقع پر سیشن کورٹ لاہور میں ناقص حفاظتی اقدامات اور حکومتی ملی بھگت سے ایک زبردست دھماکا ہوا جس میں آپ نے ضیاءالرحمن شھید ھو گئے۔ ضیاءالرحمن کی عمر اس وقت 42 سال تھی۔ اعظم طارق اس دھماکا میں شدید زخمی ہوئے اور تقریبا 60 کے قریب پولیس اہلکار بھی جانبحق ھوئے۔
ایثار القاسمی شہید اکتوبر 1964 میں چک484 گ ب تحصیل سمندری فیصل آباد میں پیدا ہوئے .آپ کے والد کا نام رانا عبد المجید تھا جو راجپوت خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔1972 میں جب آپ کی عمر 8 سال تھی آپ کے والد سمندری سے ترک سکونت اختیار کرکے لاہور منتقل ہو گئے۔آپ نے ابتدائی تعلیم لاہور اے ایک انگریزی میڈیم اسکول سے حاصل کی۔ ابتدائی تعلیم مکمل کرنے کے بعد آپ کو جامعہ اسلامیہ گلبرگ لاہور میں داخل کرایا گیا۔ جہاں سے آپ نے حفظ قرآن اور تجوید کی سند حاصل کی۔ بعد ازاں آپ نے دار العلوم حنفیہ اور جامعہ عثمانیہ سے مزید دینی تعلیم حاصل کی جہاں آپ نے مولانا حسین احمد مدنی کے شاگرد مولانا عبد العلیم قاسمی سے درس نظامی مکمل کیا۔ درس نظامی مکمل کرنے کے بعد آپ لاہور کے مدارس مخزن العلوم اور دارلحق میں قرآن مجید اور درس نظامی کی تدریس سے وابستہ رہے۔ اس کے ساتھ ساتھ مسجد داراسلام میں خطابت کے فرائض بھی انجام دیے۔بعد ازاں آپ اوکاڑہ منتقل ہوئے ہور صدیق نگر کی مسجد صدیقیہ کی امامت سنبھالی۔ کچھ عرصہ یہاں خدمات انجام دینے کے بعد جامع مسجد انواریہ نزد ریلوے اسٹیشن کے خطیب مقرر ہوئے .1988 میں تحصیل دیپالپور ضلع اوکاڑہ کے نواح میں آباد اایک معزز راجپوت خاندان میں آپ کی شادی ہوئی۔ سیاسی مذہبی معاملات کے گہری نظر رکھنے کے باعث آپ نے جلد ہی اوکاڑہ کے سیاسی و مذہبی حلقوں میں اہمیت حاصل کرلی۔
ساہیوال میں منعقد ایک جلسے میں آپ کی ملاقات مولانا حق نواز جھنگوی سے ہوئی جس کے بعد آپ نے اپنی زندگی کو ناموس صحابہ کے لیے وقف کرنے کا فیصلہ کیا اور سپاہ صحابہ میں شمولیت اختیار کی۔ یہیں آپ کو پہلی بار پابند سلاسل کیا گیا اور کئی روز آپ نے ساہیوا ل جیل میں گزارے۔ گڑھ مہاراجا میں عوام اہلسنت پر اس وقت ظلم کی انتہا ہو گئی جب آپ کی تشکیل گڑھ مہاراجا کردی گئی۔آپ نے وہاں کی جامع مسجد میں خطابت کی اور اپنی شعلہ بیانی سے اہلسنت کا ناطقہ بند کر دیا۔ یہاں بھی آپ کو حق گوئی کے جرم میں دو بارگرفتار کیا گیا اور مظفرگڑھ جیل میں آپ کو رکھا گیا۔
۔1989 میں آپ کی ایک بار پھر اوکاڑہ تشکیل ہوئی جہاں آپ نے اپنے جامعہ قاسمیہ کی بنیاد رکھی۔ اوکاڑہ کے ایک معروف عالم دین مولانا اسماعیل رشیدی نے ایک عظیم الشان جامعہ شروع کی تو آپ کو ہی اس کا پہلا رئیس مقرر کیا گیا۔22 فروری کو مولانا حق نواز جھنگوی کے واصل بحق ہونے کے بعد سپاہ صحابہ کے سرپرست اعلی مولانا ضیاءالرحمن فاروقی نے آپ کو سپاہ صحابہ کا امیر مقرر کیا۔ اکتوبر 1990 میں ہونے والے عام انتخابات میں آپ نے مولانا سمیع الحق کے اصرار پر آپ نے اسلامی جمہوری اتحاد کے ٹکٹ پرقومی اسمبلی کے حلقہ68 اور صوبائی حلقہ65 پر انتخابات میں حصہ لیا۔ آپ نے 61000 ووٹ لے کر شاندار کامیابی حاصل کی۔
۔ 31 دسمبر 1990 میں آپ نے ایوان زیریں کے اجلاس سے خطاب کیا۔ جس میں آپ نے، صدر پاکستان کی تقریر، نفاذ شریعت، پاکستان پیپلز پارٹی کے سابقہ دور حکومت کا جائزہ، اسلامی جمہوری اتحاد کی نئی قائم شدہ حکومت کے فرائض، بے روزگاری کے تدارک کے علاوہ ایک پڑوسی ملک کی جانب سے پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت جیسے حساس معاملات پر روشنی ڈالی۔ آپ نے بحیثیت رکن ایوان زیریں کئی ممالک بشمول سعودی عرب کے دورے کیے .
10جنوری 1991 کو آپ اپنی خالی کی ہوئی نشست پر ہونے والے ضمنی انتخابات کے موقع پر پولنگ اسٹیشنوں کے دورے پر تھے کہ بستی گھوگیاں والی ضلع جھنگ کے پولنگ اسٹیشن پر شقی القلب دہشت گردوں نے آپ کو اپنی گولیوں کا نشانہ بنا کر واصل بحق کر دیا۔ آپ کی نمازجنازہ 11 جنوری 1991 بروز جمعہ المبارک شفقت شہید گراونڈ میں مولانا ذو الفقار احمد نقشبندی نے پڑھائی۔ آپ جامعہ محمودیہ جھنگ میں مولانا حق نواز جھنگوی کے پہلو میں محو استراحت ہوئے . آپ نے اپنے پسماندہ گان میں والدین، بیوہ، چھ بھائی، دو بہنیں اور لاکھوں کارکنان سوگوار چھوڑے .
اعظم طارق 28 مارچ، 1962ء تا 6 اکتوبر، 2003ء) مذہبی و سیاسی تنظیم سپاہ صحابہ پاکستان کے سربراہ تھے اور پاکستان میں اپنے وقت کے طاقتور ترین راہنماؤں میں سے ایک تھے۔ اس کے علاوہ ایک متنازع شخصیت کے طور پر بھی جانے جاتے تھے۔ فرقہ واریت پھیلانے اور فرقہ وارانہ دہشت گردی کے الزامات کی زد میں بھی رہے۔ شیعہ ذرائع اعظم طارق کو 1997ء تا 2003ء سینکڑوں اہل تشیع مسلمانوں کی ہلاکت کا ذمہ دار قرار دیتے ہیں۔
اعظم طارق تحصیل چیچہ وطنی میں واقع گاؤں ایک سو گیارہ/ سات آر میں پیدا ہوئے۔ ان کا تعلق ایک راجپوت منج خاندان سے بتایا جاتا ہے۔ اپنی ابتدائی مذہبی تعلیم ضلع ٹوبہ ٹیک سنگھ میں واقع دار العلوم ربانیہ سے حاصل کی۔ تحصیل علم کے لیے وہ مدرسہ تجوید القرآن چیچہ وطنی اور جامعہ عربیہ نعمانیہ چنیوٹ سے بھی مسلک رہے۔ انھوں نے 1984ء میں جامعہ علوم اسلامیہ بنوری ٹاؤن کراچی سے دورہ حدیث کا کورس مکمل کیا انھوں نے وفاق المدارس سے عربی اور اسلامیات کے مضامین میں ایم اے کی ڈگریاں بھی حاصل کی ہوئی تھیں۔ تعلیمی سلسلے کی تکمیل کے بعد وہ جامعہ محمودیہ کراچی میں صدر مدرس اور ناظم اعلیٰ مقرر ہوئے۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ جامع مسجد صدیق اکبر نارتھ کراچی کے خطیب بھی تھے۔
جھنگ میں سپاہ صحابہ (اس وقت انجمن سپاہ صحابہ) کے قیام کو ابھی سات ماہ ہی کا عرصہ گذرا تھا وہ اس میں شامل ہو گئے اور کراچی میں اس کی تشکیل شروع کر دی۔ وہ پہلے کراچی سنٹرل اور بعد میں کراچی ڈویژن کے سیکریٹری جنرل مقرر ہوئے۔ 1989ء میں جماعت کے بانی قائد حق نواز جھنگوی نے انھیں صوبہ سندھ کا سیکریٹری جنرل نامزد کر دیا۔ حق نواز جھنگوی کی ہلاکت کے بعد وہ پہلے سپاہ صحابہ کے ڈپٹی سیکریٹری بنے۔ جنوری 1991ء میں وہ جماعت کے نائب سرپرست اعلیٰ بنے۔ اس مرحلے پر انھوں نے کراچی سے سکونت ترک کر دی اور جھنگ میں قیام پزیر ہو گئے۔ یہاں انھیں مسجد حق نواز جھنگوی کا خطیب مقرر کیا گیا۔ ملکی سیاست میں ان کا نام اس وقت منظر عام پر آیا جب انھوں نے سپاہ صحابہ کے پلیٹ فارم سے جھنگ شہر کی قومی اسمبلی کی سیٹ جیتی۔ ایثار القاسمی کے قتل کی وجہ سے ہونے والے ضمنی انتخابات میں انھوں نے سپاہ صحابہ کے روایتی حریف شیخ خاندان سے تعلق رکھنے والے شیخ یوسف کو شکست دی۔
جنوری 1996ء میں لاہور کے سیشن کورٹ میں ہونے والے بم دھماکا میں سپاہ صحابہ کے قائد ضیاء الرحمٰن فاروقی کی ہلاکت کے بعد وہ سپاہ صحابہ کے سرپرست اعلیٰ بن گئے۔ انھیں گوجرانولہ کے ایس ایس پی اشرف مارتھ کے قتل کے مقدمے میں گرفتار کیا گیا اور کچھ عرصہ جیل میں گزارا۔ 1997ء میں ہونے والے عام انتخابات میں وہ قومی اسمبلی کی سیٹ تو نواب امان اللہ سیال کے ہاتھوں ہار گئے تھے لیکن وہ صوبائی اسمبلی کی نشست صرف چند ووٹوں کی فرق سے جیتنے میں کامیاب رہے تھے۔ صوبائی اسمبلی کی نشست پر ان کا مقابلہ ڈاکٹر ابو الحسن انصاری سے تھا۔ گذشتہ انتخابات کے موقع پر بھی وہ میانوالی جیل میں بند تھے لیکن اس کے باوجود وہ جھنگ شہر پر مشتمل سپاہ صحابہ کی قومی اسمبلی کی روایتی نشست جیتنے میں کامیاب رہے۔ جھنگ سے ایم این اے منتخب ہونے کے چند ماہ بعد ان کو عدالت نے رہا کرنے کاحکم جاری کیا۔ رہائی کے بعد انھوں نے ایک نئی جماعت ملت اسلامیہ کی بنیاد رکھی۔ اس جماعت کے پلیٹ فارم سے انھوں نے جنرل پرویز مشرف کی حمایت کی اور وزیراعظم ظفراللہ جمالی کا ساتھ دیا۔
اعظم طارق کالعدم تنظیم سپاہ صحابہ کے کارکنوں کے درمیان میں جتنے زیادہ مقبول تھے شیعہ مسلک سے تعلق رکھنے والے افراد ان کے اتنے ہی مخالف تھے۔ مخالف فرقے کے لوگوں میں ان کے خلاف پائی جانے والی نفرت کا بنیادی وجہ 1993ء میں جھنگ کے ایک عوامی اجتماع ان کی وہ تقریر تھی جس میں انھوں نے شیعہ مسلک کے بارہویں امام مہدی کے بارے میں سخت الفاظ استعمال کیے تھے۔ اس کے ساتھ ساتھ ان کا تعلق سپاہ صحابہ کے ایک انتہا پسند دہشت گرد ریاض بسرا کی تنظیم لشکر جھنگوی سے بھی رہا جس نے کیے بڑے بڑے شیعہ علما کو قتل کیا۔ خود اس بات کر تردید کرتے رہے۔ ان کے خلاف 65 مقدمے درج ہوئے جن میں 28 کا تعلق دہشت گردی کے قانون سے رہا۔
ان پر کئی قاتلانہ حملے ہوئے۔ پہلا حملہ ضلع سرگودھا کی تحصیل شاہ پور میں اس وقت ہوا جب وہ قومی اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے اسلام آباد جا رہے تھے۔ اس حملے میں ان پر راکٹ بھی فائر کیے گئے لیکن وہ بال بال بچ گئے۔17 جنوری 1986ء میں لاہور کے سیشن کورٹ پر ہونے والے حملے کا بھی اصل نشانہ اعظم طارق ہی تھے۔ حملے میں سپاہ صحابہ کے قائد ضیا الرحمٰن فاروقی، دو درجن سے زائد پولیس ملازمین، ایک پریس فوٹوگرافر ہلاک ہوئے جبکہ خود اعظم طارق زخمی ہو ئے۔
اعظم طارق کو 4 اکتوبر 2003ء کو ایم 2 موٹروے سے اسلام آباد داخل ہونے کے بعد گولیاں مار کر ہلاک کر دیا گیا۔ ساتھ ہی ایک اور راہنما قاری ضیاء الرحمن کی ہلاکت بھی ہوئی۔ ایک اخبار کے مطابق ایک سفید پجیرو اعظم طارق کی گاڑی کا پیچھا کرتے ہوئے اس سے آگے بڑھی اور سڑک پر کسی ایکشن فلم کے منظر کی طرح گھومتے ہوئے اس کا راستہ روک کر کھڑی ہو گئی۔ پجیرو میں سے تین افرد اچھل کر باہر نکلے۔ اور خودکار ہتھیاروں سے اعظم طارق کی گاڑی پر تین اطراف سے گولیوں کی بوچھاڑ کر دی۔ دو سے تین منٹ کے اندر 200 گولیاں برسائی گئیں۔ صرف اعظم طارق کو 40 گولیاں لگیں۔ اپ کا جنازہ عبدالرشید غازی نے پڑھایا- اپ کے قتل کا الزام اعظم طارق کے لوگزں نے اس وقت کے پرویز مشرف کے حمایتیوں پر لگایا تھا۔
علامہ علی شیر حیدری رجب 1963ء کو ضلع خیر پور کے گاؤں گوٹھ موسی ٰ خان جانوریاں میں پیدا ہو ئے۔ ان کا تعلق بلوچ قبیلہ چانڈیو کے زمیندار گھرانے سے تھا۔ والد کا نام محمد وارث جانوری تھا۔ علامہ علی شیر حیدری سپاہ صحابہ پاکستان اھلسنت ولجماعت پاکستان کے سرپرست اعلی کے عہدے پر فائز رہے۔ابتدائی تعلیم خیر پور میرس کے مشہور اسکول گورنمنٹ ناز ہائی اسکول سے حاصل کی۔ میٹرک کے بعد جامعہ راشدیہ پیرو جو گوٹھ خیرپور میں داخلہ لیا۔ درس نظامی کی تکمیل جامعہ اشاعت القرآن لاڑکانہ سے کی جبکہ ٹھیڑی کے مشہور مدرسہ جامعہ دار الہدیٰ سے دورہ حدیث کیا۔ علامہ علی شیر حیدری کا شمار شروع سے ہی مکتب کے ہونہار اور ذہین و فطین طلبہ میں ہوتا تھا۔
۔ 1984ء میں دوران تعلیم جامعہ عزیزیہ رتوڈیرو لاڑکانہ میں فقہ کی مشہور کتاب کنز الدقائق کا درس بھی دیتے رہے۔ تعلیم سے فراغت کے بعد اسی مدرسہ میں درس و تدریس کا باقاعدہ آغاز کیا۔ علامہ کی شہرت علوم قرآن ،علوم سنت ،علم فقہ ،علم الکلام اور تقابل ادیان میں کمال مہارت کے طور پر تھی۔ 1987ء میں خیر پور میں الجامعة الحیدریہ انوار الھدیٰ کے نام سے پروقار مگر سادہ درس گاہ قائم کی۔ جامعة الحیدریہ میں درس نظامی، تقابل ادیان ،اسلامی معاشرت اور تمدن کے ساتھ سندھی تہذیب و ثقاقت کے موضوعات پر علمی اور تحقیقی درس دیے۔ علامہ نے پورے سندھ میں اسلامی معاشرت کے تحفظ اور اس میں در آنے والی خرافات کی اصلاح کی کوششیں کیں اور لوگوں کو ان کی اصل اساس یعنی آغاز اسلام سے نسبت جوڑنے پر زور دیا۔ کیونکہ علامہ کا خیال تھا کہ مسلم معاشروں میں اتحاد و اتفاق صرف اور صرف اساس اسلام سے مضبوط ربط اور منظم تعلق سے ہی استوار کیا جا سکتا ہے۔
۔ 1979ء میں امریکا اور مغرب کے اشارہ پر فرانس میں رہائش پزیر شیعہ رہنما خمینی کے ہاتھوں بپا ہو نے والے ایرانی انقلاب کے اس لیے مخالف ہو گئے کہ امریکی برانڈ اسلام مسلم معاشروں میں فرقہ واریت ،انتہا پسندی اور نفرت پیدا کر رہا ہے۔علامہ نے نوجوانوں سے درخواست کی کہ وہ اپنے دین اور ثقافت کو جانیں اور سنبھالیں۔ جذباتیت اور شعلہ بیانی کی بجائے علمی اور ادبی میدانوں میں اپنا کردار ادا کریں۔ علامہ فرمایا کر تے تھے کہ بہترین نظم و ضبط کے حامل ،اعلی ٰ اخلاق و کردار کے مالک،اسلام کی روح سے آشنا اور جدید دور کے تقاضوں سے آراستہ و پیراستہ طلبہ و طالبات ملت کا اثاثہ اور ان کا سرمایہ ہیں۔ انھوں نے طلبہ پر خصوصی توجہ دی اور فرمایا کہ دینی مدارس اور عصری تعلیمی اداروں کے طلبہ ایک دوسرے کے ساتھ گہرا ربط اور تعلق رکھیں اور باہم علوم و افکار کا تبادلہ کرتے رہیں۔
علامہ نے عالمی حالات و واقعات کا درست سمت تجزیہ کر تے ہو ئے کہا تھا کہ امریکا مسلم ممالک کے وسائل پر قبضہ کر نے کے لیے خفیہ ایجنسیوں کے ذریعے جبہ و دستا ر میں چھپے جعلی علماءپیدا کر رہا ہے۔ ان جعلی علماءکا کام معاشرے میں فروعی اختلافات کو زور دیکر بیان کرنا ہے تاکہ ملک میں مذہب کے نام پر خانہ جنگی کی کیفیت اور ماحول پیدا کر کے معاشرے کو دین بیزار بنایا جا سکے۔ دوسری جانب وہ مغربی اقدار کی سر پرستی اور فروغ کے لیے کو شاں ہے تاکہ معاشرے سے غیرت اور حمیت کا خاتمہ کیا جا سکے۔ تیسرے محاذ پر وہ آمروں اور اپنے ایجنٹوں کو ملکوں میں اقتدار پر مسلط کرواتا ہے تاکہ وہ مہنگائی، کرپشن اور ظلم کا بازار گرم کریں جس سے لوگوں میں ریاست کے خلاف نفرت اور بغاوت کا جذبہ پیدا ہو۔ یہ ساری صورتیں پاکستان کو تباہی کی جانب لے کر جا رہی ہیں۔
علامہ نے اتحاد بین المسلمین کے داعی اور فکر اسلامی کے نقیب علامہ حق نواز جھنگوی کی پاک آواز پر لبیک کہا اور سپاہ صحابہ میں شمولیت اختیار کی۔علامہ صوبہ سندھ کے سر پرست رہے اور18 جنوری 1997ء کو قائد شہید ثانی علامہ ضیاءالرحمن فاروقی کی شہادت کے بعد علامہ کو سپاہ صحابہ کا سر پرست اعلیٰ منتخب کر لیا گیا۔
علامہ نے علماءکے اتحاد اور فروعی اختلافات کے خاتمے کے لیے شاندار اور تاریخ ساز جدوجہد کی۔ عدالت عظمی پاکستان میں جسٹس سید سجاد علی شاہ کے سامنے اگست 1997 میں علامہ نے ملت اسلامیہ کا جب موقف پیش کیا تو چیف جسٹس اسلام کے خلاف اسلام کے روپ میں سازشوں کو دیکھ کر ورطہ حیرت میں ڈوب گئے۔ علامہ نے عدالت عظمی پاکستان کے سامنے ائمہ اہل سنت والجماعت ،اور مسالک اہل سنت والجماعت کی ترجمانی کا حق ادا کر دیا۔ چیف جسٹس نے جب اسلام، قرآن، رسول اللہ، اہل بیت، صحابہ کرام اور اولیائے عظام کے خلاف غلیظ قلم کی ناپاک جسارتیں دیکھیں تو فرط جذبات پر قابو نا رکھ سکے اور عدالت میں ہی آبدیدہ ہو گئے۔
علامہ نے علما، وکلا، سیاسی اور دینی جماعتوں اور شخصیات کے سامنے اپنا موقف کھلے انداز میں پیش کیا تو سب نے مانا لیکن مصلحت کے پردے میں سامراجی اور ستعماری عزائم سے ناآشنا اور جان کا خوف کھانے والے پیچھے ہٹ گئے۔ لیکن علامہ نے تپتی دھوپ میں وارثت پیغمبری کا علم اٹھایا اور اسلام کا حقیقی تصور عوام اور خواص کے قلب و دماغ میں گاڑ دیا۔علامہ نے خلیجی ممالک، افریقا، امریکا، یورپ اور برصغیر کے کئی ممالک کے سفر کیے۔ عربی، انگریزی، فارسی، اردو اور سندھی روانی سے بولتے تھے اور اپنے نوجوانوں سے بھی علوم و فنون کے ساتھ ساتھ مختلف زبانیں سیکھنے کا مطالبہ کر تے۔ علامہ کو جیل بھیجا گیا۔ تشدد کیا گیا ،کئی مرتبہ قاتلانہ حملے ہو ئے لیکن مشن رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم پر قائم رہے۔ جیل میں تھے اور وہیں 3 ماہ کے قلیل عرصے میں قرآن کریم حفظ کر لیا۔
۔ 17 اگست 2009ء کی رات دو بجے تک خیرپور میں تزکیہ نفوس اور تطہیر فکر و قلوب کی مجلس میں مصروف رہے۔ رات کے آخری پہر اپنے مرکز روانگی کے لیے نکلے تو گوٹھ دوست محمد ابڑو کے قریب گھات لگا کر بیٹھے افراد نے علامہ پر گولیوں کی بوچھاڑ کر دی اور اس طرح راہی ملک عدم ہوئے۔