سنی علماء کونسل اہل سنت سے تعلق رکھنے والی جماعت ہے ۔ اس جماعت کا پرانا نام انجمن سپاہ صحابہ پھر سپاہ صحابہ پاکستان رہا ہے۔ یہ جماعت 1944ء میں امرتسر میں قائم ہونے والی "تنظیم اہلسنت مسلم تنظیم ہے۔ جو مسلمانوں کو شعیت سے بچانے اور ناموس صحابہ کرام کے دفاع کرنے کے لیے بنایی گئی۔جو 1984ء میں دیوبندی عالم نورالحسن بخاری کی وفات کے بعد انجمن سپاہ صحابہ کے نئے نام سے 1985ء میں پاکستانی پنجاب کے شہر جھنگ میں سامنے آئی۔ مولانا حق نواز جھنگوی شہید کو 1990ء میں شعیہ کے ناپاک عزائم خاک میں ملانے پر شہید کر دیا ۔مولانا حق نواز جھنگوی شہید کے بعد مولانا ایثار الحق قاسمی شہید اس جماعت کے سربراہ بنے، جنھیں 1991ء میں شہید کر دیا گیا۔ اس کے بعد مولانا ضیاء الرحمن فاروقی شہید نے سپاہ صحابہ کی قیادت سنبھالی لی۔ علامہ ضیاء الرحمن فاروقی 18 جنوری 1997ء کو سپاہ محمد پاکستان کے بم حملے میں شہید ہوئے۔اس کے بعد مولانا اعظم طارق شہید اس جماعت کے سربراہ بنے، جو 2003ء میں اسلام آباد میں شہید کر دیے گئے۔ سپاہ صحابہ کے اب تک کم وبیش ایک ہزار کارکن شہید کیے جا چکے ہیں جن میں سے اکثر شیعہ کے ساتھ مقابلوں میں شہید ہوئے۔ 2017ء میں اس جماعت پر دوبارہ پابندی لگا دی گئی، پھر 26 جون 2018ء کو سپاہ صحابہ رضہ پاکستان سے پابندی ہٹا لی گئی۔
تدریسی وتعلیمی خدمات میں جہاں ہزاروں حفاظ اور علما، مفتیان عظام پیدا کیے وہیں یہ ادارہ تحریکی میدان کی جولان گاہ بھی رہا۔ سیاسی وسماجی شخصیات کا اس ادارے اور اس کے بزرگوں سے نیاز مندانہ تعلق ان سیاسی شخصیات کے لیے باعث صدافتخار رہا۔ چنانچہ باغ کی وہ سیاسی شخصیت جسے فتنہ قادیانیت کے خلاف ختم نبوت کا سپاہی بن کر عالم اسلام میں سب سے پہلے کشمیر اسمبلی کی سطح پر قادیانیت کو غیر مسلم اقلیت قرار دلوانے میں بنیادی کردار ادا کرنے کی توفیق بخشی گئی (میجر ریٹائر سابق سپیکر کشمیر اسمبلی محمد ایوب خان شہید )وہ بھی اسی ادارے سے نہ صرف منسلک رہے بلکہ ان کے مذہبی رجحانات کی تشکیل میں اس ادارے کے مہتمم حافظ عبداللہ صاحب کا بنیادی کردار رہا۔ بلکہ اگر یوں کہا جائے کہ عالمگیر فتنے کیخلاف میجر ایوب کے بنیادی کردار کے پیچھے تعلیم القرآن کا بنیادی کردار ہے تو یہ مبالغہ نہیں اور یہ کیوں نہ ہوتا کہ اس ادارے کے بانی سائیں محمد اکبر کے دست راست میجر ایوب شہید کے والد گرامی سردار رسمت خان رہے ہیں ۔ اللہ پاک نے ان دونوں بانیان کی نیکیوں کو یوں شرف قبولیت بخشا کہ ان حضرات کے فرزندان (حافظ عبداللہ ،میجر ایوب شہید )کو جہاں تعلیم القرآن کی شکل میں قرآن وسنت کی خدمت اور نشر واشاعت کی توفیق بخشی وہیں اس عالمگیر فتنے (قادنیت )کے خلاف بنیادی کردار ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائی ۔
حق نواز جھنگوی حق نواز جھنگوی پاکستانی سنی عالم دین، مقرر، خطیب اور انجمن سپاہ صحابہ پاکستان کے بانی تھے۔ پیدائش 1952ء میں چاہ کچھی والا، موضع چیلہ، تھانہ مسن، ضلع جھنگ میں ولی محمد کے گھر پیدا ہوئے۔ دنیاوی تعلیم پرائمری تک تعلیم حاصل کی۔ دینی تعلیم حفظ قرآن پرائمری کے بعد اسی محلہ کے ایک مدرسے میں اپنے ماموں حافظ جان محمد سے عرصہ دو سال میں قرآن مجید حفظ کیا۔ قرأت علم قرات شیخاں والی مسجد خانیوال سے حاصل کیا۔ درس نظامی آپ نے کبیر والا کے معروف دار العلوم سے تفسیر، حدیث، فقہ، ادب، تاریخ، منطق، فلسفہ، صرف ونحو کے علوم میں مہارت حاصل کی۔ دورہ حدیث دورہ حدیث جامعہ خیرالمدارس ملتان سے کیا۔ سپاہ صحابہؓ کا قیام 6 ستمبر 1985ء کو آپ نے انجمن سپاہ صحابہ کی بنیاد رکھی۔ جس کے ابتدائی اراکین کی تعداد 29 تھی۔ یہ جماعت صرف جھنگ کی سطح پر تھی جسے گورنمنٹ کی پالیسیوں کی خلاف ورزیوں کی وجہ سے 2002ء میں حکومت پاکستان نے ایک کالعدم تنظیم قرار دے دیا تھا۔ وفات 22 فروری 1990ء کی ایک سرد شام آپ کی آخری شام ثابت ہوئی جب آپ ایک قاتلانہ حملے میں شہید ہو گئے۔ آپ کی نماز جنازہ بروز جمعہ 23 فروری 1990ء بعد نماز عصر جھنگ صدر کے جنوب مشرق میں واقع گورمنٹ اسلامیہ ہائی اسکول کے وسیع وعریض میدان میں عبد اللہ درخواستی نے پڑھائی۔ تدفین آپ کو جامعہ محمودیہ جھنگ میں سپردخاک کیا گیا۔ پسمندگان آپ کے پسماند گان میں ایک بیوہ اور تین صاحبزادے اظہار الحق، حسنین معاویہ، مسرور نواز چھوڑے۔