حضرت صدیق اکبر کی شان میں تقریر کی گئی جس نے مجع کے دل جیت لیے ۔۔۔ شان صدیق اکبر موضوع ہی ایسا ہے کہ ہرمسلمان اس پر عش عش کر اٹھتا ہے۔حضرت صدیق اکبر کی شان میں تقریر کی گئی جس نے مجع کے دل جیت لیے ۔۔۔ شان صدیق اکبر موضوع ہی ایسا ہے کہ ہرمسلمان اس پر عش عش کر اٹھتا ہے۔حضرت صدیق اکبر کی شان میں تقریر کی گئی جس نے مجع کے دل جیت لیے ۔۔۔ شان صدیق اکبر موضوع ہی ایسا ہے کہ ہرمسلمان اس پر عش عش کر اٹھتا ہے۔حضرت صدیق اکبر کی شان میں تقریر کی گئی جس نے مجع کے دل جیت لیے ۔۔۔ شان صدیق اکبر موضوع ہی ایسا ہے کہ ہرمسلمان اس پر عش عش کر اٹھتا ہے۔حضرت صدیق اکبر کی شان میں تقریر کی گئی جس نے مجع کے دل جیت لیے ۔۔۔ شان صدیق اکبر موضوع ہی ایسا ہے کہ ہرمسلمان اس پر عش عش کر اٹھتا ہے۔حضرت صدیق اکبر کی شان میں تقریر کی گئی جس نے مجع کے دل جیت لیے ۔۔۔ شان صدیق اکبر موضوع ہی ایسا ہے کہ ہرمسلمان اس پر عش عش کر اٹھتا ہے۔حضرت صدیق اکبر کی شان میں تقریر کی گئی جس نے مجع کے دل جیت لیے ۔۔۔ شان صدیق اکبر موضوع ہی ایسا ہے کہ ہرمسلمان اس پر عش عش کر اٹھتا ہے۔
الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي فَضَّلَ سَيّدِنَا وَ مَوْلَانَا مُحَمَّدًا صَلَّى اللهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْعَلَمِينَ جَمَيْعًا وَأَقَامَہٗ يَوْمَ الْقِيَامَةِ لِلْمُذْنِبِينَ الْمُتَلَوِّثِينَ الْخَطَّائِينَ الْهَالِكِينَ شَفِيعًا اَمَّا بَعْدُ فَاعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيْمِ هُوَ الَّذِي يُصَلِّى عَلَيْكُمْ وَمَلَئِكَتُهُ لِيُخْرِجَكُمْ مِنَ الظُّلُمَتِ إلَى النُّورِ، وَكَانَ بِالْمُؤْمِنِينَ رَحِيماً صَدَقَ اللَّهُ العَظِيمُ وبَلْغَنَا رَسُولُهُ النَّبِيُّ الكَرِيمُ محترم حضرات! میں مناسب ہی نہیں بلکہ ضروری سمجھتا ہوں کہ سب سے پہلے آپ اور ہم مل کر سید ابرار و اخیار، شہنشاہ ذی وقار، کائنات کے اولیں فصل بہار، رہبر اعظم ، قائد اعظم، نیر اعظم ، سیاح لامکاں، مالک انس و جاں، ہم سبھوں کے غمگسار، عرب کے ناقہ سوار، بے سہاروں کا سہارا، غریبوں کا ماویٰ، یتیموں کا ملجا، عرب کے تاجدار عجم کے سردار احمد مختار جناب محمد رسول اللہﷺ کی بارگاہ میں عقیدت و محبت کے ساتھ درود شریف کا نذرانہ پیش کریں۔ اللَّهُمَّ صِلَّ عَلَى مُحَمَّدٍ بَارِكْ وَسَلِّمْ صَلَاةً وَسَلَامًا عَلَيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ. صَلَاةٌ وَسَلَامًا عَلَيْكَ يَا حَبِيبَ اللهِ. جانشین شاہ بطحا حضرت صدیق ہیں امتی میں سب سے اعلی حضرت صدیق ہیں بالیقیں عثمان عمر مولا علی ہیں معتبر مرتبے میں سب سے بالا حضرت صدیق ہیں محترم حاضرین! آج میں نے اپنا عنوان عظمت صدیق اکبر کو بنایا ہے سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ کی عظمت، صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ کی رفعت ، صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ کا مقام بہت بلند و بالا ہے قرآن مقدس کی بہت سی آیتیں صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ کی شان میں ہیں بہت ساری احادیث مبارکہ میں سید ناصدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی عظمت اور شان بیان کی گئی ہے۔ میں نے جو قرآن مقدس کی آیت مقدسہ کی تلاوت کی ہے جس کا ترجمہ یہ ہے وہی ہے کہ درود بھیجتا ہے تم پر وہ اور اس کے فرشتے کہ تمہیں اندھیروں سے اجالے کی طرف نکالے اس آیت کریمہ کا شان نزول ملاحظہ فرما لیجئے تو حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا مقام معلوم جائے گا آیت کریمہ کے شان نزول میں حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ جب آیت درود إِنَّ اللَّهَ وَمَلَئِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ کا نزول ہوا تو سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا یارسول اللہ ﷺ جب اللہ تبارک و تعالی آپ کو کوئی فضل عطا فرماتا ہے جب اللہ تبارک و تعالیٰ آپ کو کوئی شرف عطا فرماتا ہے جب اللہ تبارک و تعالیٰ آپ کو بلند مقام عطا فرماتا ہے جب اللہ تبارک و تعالیٰ آپ کو رتبہ عطا فرماتا ہے تو آپ کے طفیل ہم نیاز مندوں کو بھی نوازتا ہے۔ آپ کے صدقے ہم غلاموں کو بھی عطا فرماتا ہے آپ کے وسیلے سے ہم خادموں پر بھی عنایت ہوتی ہے تو اس پر اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہ آیت کریمہ نازل فرمائی۔ افضل البشر بعد الانبياء محترم حاضرین! مسلمانوں کا اس میں اتفاق ہے۔ مومنوں کا اس میں اتفاق ہے عاشقانِ رسول کا اس میں اتفاق ہے۔ علماء اہل سنت کا اس میں اتفاق ہے، محدثین کا اس میں اتفاق ہے مفسرین کا اس میں اتفاق ہے، مجتہدین کا اس میں اتفاق ہے، ائمہ کا اس میں اتفاق ہے کہ انبیاء کرام علیھم السلام کے بعد تمام انسانوں میں انبیاء کرام علیہم السلام کے بعد تمام لوگوں میں سب سے افضل صدیق اکبر ہیں۔ سب سے اعلیٰ صدیق اکبر ہیں۔ سب سے ارفع صدیق اکبر ہیں سب سے اونچے مقام والے صدیق اکبر ہیں۔ سب سے اونچی قدر منزلت والے صدیق اکبر ہیں۔ سب سے عظمت والے صدیق اکبر ہیں۔ سب سے بلند مقام والے صدیق اکبر ہیں۔ سب سے جاہ و حشم والے صدیق اکبر ہیں۔ حضور سد المرسلین ﷺ ارشاد فرماتے ہیں اَبُو بَكْرنِ الصديق خيرُ الناسِ إِلَّا أَنْ يَكُونَ نَبِيا، حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ لوگوں میں سب سے بہتر ہیں علاوہ اس کے کہ وہ نبی نہیں ہیں مطلب یہ ہے کہ انبیاء کرام کے علاوہ کوئی بھی صدیق اکبر سے افضل نہیں ہوسکتا۔ حضور سید عالم ﷺ فرماتے ہیں خیر الناس یعنی لوگوں میں سب سے افضل صدیق اکبر ہیں ناس میں عرب والے بھی آگئے ناس میں عجم والے بھی آگئے ناس میں مکے والے بھی آگئے ناس میں مدینے والے بھی آگئے ناس میں روئے زمین کےسارےانسان آگئے ۔ ایک دوسری جگہ سرور کائنات ﷺ ارشاد فرماتے ہیں کہ نبی کے علاوہ کوئی ایسا شخص نہیں ہے جس پر سورج طلوع اور غروب ہوا اور وہ صدیق اکبر سے افضل ہو۔ مطلب یہ ہوا کہ نبی کے بعد ایسا کوئی شخص پیدا ہی نہیں ہوا جو صدیق اکبر سے افضل ہو۔ پیارے آقا کے پیارے پیارے دیوانو! صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی افضلیت کے بارے میں حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا فیصلہ سنئے حضرت عمر نے صدیق اکبر سیدنا صديق أكبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بارے میں کیا ارشاد فرمایا غور سے سنئے ۔ ایک مرتبہ حضرت فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ منبر پر رونق افروز ہوئے اور ارشاد فرمایا کہ رسول خدا ﷺ کے بعد لوگوں میں سب سے افضل صدیق اکبر ہیں لوگوں میں سب سے اعلیٰ صدیق اکبر ہیں اگر کوئی شخص اس کے خلاف کہا تو وہ جھوٹا ہے اگر کوئی اس بات کا انکار کرے تو وہ کذاب ہے اگر کوئی شخص اس کو تسلیم نہ کرے تو وہ افترا پرداز ہے اور اس کو سزا دی جائے گی جو شریعت نے افترا پرداز کے لئے مقرر کی ہے۔ محترم سامعین کرام ! اب حضرت علی سے صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے تمام لوگوں میں افضل ہونے کی حدیث بھی سن لیجیے ۔ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ اس امت میں رسول اللہ ﷺ کے بعد سب سے بہتر حضرت ابوبکر اور حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما ہیں۔ محترم حاضرین! اب ایک حدیث بخاری شریف کی بھی سن لیجیے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما بیان کرتے ہیں کہ سرور کائنات ﷺ کی حیات ظاہری میں ہم لوگ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے برابر کسی کو نہیں سمجھتے تھے جب حضور ہمارے درمیان تشریف فرما تھے ہم لوگ کسی کو بھی صدیق اکبر کے برابر نہیں جانتے تھے وہی سب سے افضل اور بہتر قرار دیئے جاتے تھے۔ یار غار محترم سامعین ! اب میں آپ کے سامنے قرآن مقدس کی ایک آیت پیش کرتا ہوں تا کہ عظمت صدیق اکبر اجاگر ہو جائے وقار صدیق اکبر نمایاں ہو جائے مقام صدیق اکبر آپ جان جائیں دسواں پارہ گیارہواں رکوع سورہ تو بہ کی چالیسویں آیت میں اللہ تبارک و تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے ”اگر تم محبوب کی مدد نہ کرو تو بے شک اللہ نے ان کی مدد فرمائی جب کافروں کی شرارت سے انھیں باہر تشریف لے جانا ہوا صرف دو جان سے جب وہ دونوں غار میں تھے جب اپنے یار سے فرماتے تھے غم نہ کھا بے شک اللہ ہمارے ساتھ ہے تو اللہ نے اس پر سکینہ اتارا اور ان فوجوں سے ان کی مدد کی جو تم نے نہ دیکھیں اور کافروں کی بات نیچے ڈالی اللہ ہی کا بول بالا ہے اور اللہ غالب حکمت والا ہے۔“ حاضران محفل ! قرآن مقدس نے اس آیت کریمہ میں ہجرت کے واقعہ کی منظر کشی کی ہے حضور کا تذکرہ ہے صدیق اکبر کا ذکر ہے۔ محترم حضرات! میں آپ کو بتادوں کہ اس آیت کریمہ میں صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی سب سے بڑی شان یہ بیان کی گئی ہے صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو حضور سرور کائنات ﷺ کو یار غار بنایا گیا ہے قرآن کہتا ہے ” جب وہ دونوں غار میں تھے جب اپنے یار سے فرماتے تھے کہ غم نہ کھا۔ یہ آیت کریمہ بتاتی ہے کہ صدیق اکبر ر اللہ کا بڑا افضل رہا کہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے ان پر سیکینہ اتر یعنی سکون و اطمینان نازل ہوا۔ یہ آیت کریمہ شاہد ہے یہ آیت کریمہ گواہ ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فرمایا اپنے دوست سے فرمایا اپنے یار سے فرمایا لا تَحْزَنْ إِنَّ اللَّهَ مَعَنَا اے میرے دوست آپ گھبرایئے نہیں اللہ ہمارے ساتھ ہے۔ اے میرے یار آپ نہ گھبرائیں اللہ ہمارے ساتھ ہے اے میرے جاں نثار آپ فکر نہ کریں پروردگار عالم ہمارے ساتھ ہے اے میرے وفادار آپ مسکین نہ ہوں اللہ ہمارے ساتھ ہے۔ اے میرے عاشق آپ غم نہ کھا ئیں اللہ تعالٰی ہمارے ساتھ ہے اے میرے یار غار آپ فکر نہ کریں اللہ ہمارے ساتھ ہے۔اے میرے ہمسفر آپ فکر نہ کریں اللہ ہمارے ساتھ ہے اے میرے ہجرت کے ساتھی آپ فکر نہ کریں اللہ ہمارے ساتھ ہے۔ محترم حضرات ! صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا عشق رسول ملاحظہ فرمائیے ۔ صدیق سیدنا صدیق ااکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی الفت کا اندازہ لگائیے صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی محبت کو دیکھئے صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ عرض کرتے ہیں یا رسول اللہ ﷺمجھے اپنی فکر نہیں ہے یا رسول اللہ مجھے اپنا غم نہیں ہے۔ یا حبیب اللہ مجھے تو آپ کی فکر ہے یا رسول اللہ مجھے تو آپ کا غم ہے میرا عشق یہ گوارہ نہیں کر سکتا کہ آپ کو تکلیف پہنچے ، میری محبت یہ برداشت نہیں کر سکتی کہ کوئی کا فرآپ کو تکلیف پہنچائے ، میری وفاداری یہ گوارہ نہیں کر سکتی کہ آپ کو کوئی گزند پہنچے یا رسول اللہﷺ میرے ماں باپ آپ پر قربان یا رسول الله صلى الله تعالیٰ علیہ وسلم إِنْ أُقْتَلُ فَأَنَا رَجُلٌ وَاحِدٌ وَإِنْ قُتِلْكَ هَلَكَتِ الأُمَّةُ. اے میرے آقا اگر میں قتل کر دیا گیا تو میں صرف تنہا قتل ہو جاؤں گا یا رسول اللہ اگر میں قتل ہو گیا تو میں تنہا ہلاک ہو جاؤں گا لیکن اے اللہ کے حبیب اگر آپ قتل کر دیئے گئے تو پوری امت ہلاک ہو جائے گی اگر آپ قتل کر دیئے گئے تو پوری انسانیت ہلاک ہو جائے گی اگر آپ قتل کر دیئے گئے تو صداقت کا چراغ بجھ جائے گا اگر آپ قتل کر دیئے گئے تو ہدایت کا آفتاب ڈوب جائے گا اگر آپ قتل کر دیئے گئے تو نور ایمان کی شمع بجھ جائے گی۔ دوسری آیت میں شان صدیق محترم سامعین کرام ! صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ کی شان میں ایک اور آیت کریمہ آپ کے سامنے پیش کروں ۔ تیسواں پارہ ستر ہواں رکوع سورہ واللیل کی آیت نمبر ۱۷، آیت نمبر ۱۸، آیت نمبر ۱۹، آیت نمبر ۲۰ کا ترجمہ ملاحظہ فرمائیں اللہ تبارک و تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے اور بہت اس سے دور رکھا جائے گا جو سب سے بڑا پر ہیز گار، جو اپنا مال دیتا ہے کہ ستھرا ہو اور کسی کا اس پر کچھ احسان نہیں جس کا بدلہ دیا جائے صرف اپنے رب کی رضا چاہتا ہے جو سب سے بلند ہے۔ محترم سامعین ! اب اس کا شان نزول بھی ملاحظہ فرمائیے جب صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بہت زیادہ قیمت دے کر حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو خریدا اور آزاد کیا تو اس بات سے کفار قریش کو بہت زیادہ حیرت ہوئی بہت زیادہ تعجب کرنے لگے کہ اتنی زیادہ قیمت دے کر خریدنے کا مطلب کیا ہے۔ اتنا زیادہ مال دے کر اس غلام کو خریدنے کا مطلب کیا ہو سکتا ہے آخر صدیق اکبر نے اتنا زیادہ مال دے کر اس غلام کو کیوں خریدا ؟ کفار آپس میں گفتگو کرنے لگے اور کہنے لگے کہ شاید بلال کا صدیق اکبر پر کوئی احسان ہوگا جس کا بدلہ چکانے کے لئے انھوں نے اتنی قیمت دے کر خریدا۔ شاید صدیق اکبر کے اوپر بلال کا کوئی احسان رہا ہو گا جس کو ادا کرنے کے لئے صدیق اکبر اتنی زیادہ قیمت دے کر اس کو خریدا۔ کفار کی ان باتوں کی تردید کے لئے یہ آیت کریمہ نازل ہوئی ، کفار کی باتوں کو رد کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے یہ آیت کریمہ کا نزول فرمایا اور یہ واضح کر دیا کہ اس پر کسی کا کچھ احسان نہیں ہے جس کا بدلہ ادا کیا جائے اس پر کسی نے کوئی احسان نہیں کیا ہے جس کا بدلہ چکا یا جائے ان کا ی فعل صرف اپنے رب کی رضا کے لئے ہے ان کا یہ کام انھوں نے اپنے رب کو راضی کرنے کے لئے کیا ہے ان کا یہ کام رضائے الہی کے لئے ہے انھوں نے یہ غلام صرف اس لئے خریدا کہ ان کا رب ان سے راضی ہو جائے۔ عظمت صدیق احادیث میں محترم حاضرین! ابھی ابھی آپ نے صدیق اکبر کی فضیلت قرآن کے حوالے سے ملاحظہ فرما یا صدیق اکبر کا مقام قرآن مقدس کے حوالے سے سماعت فرمایا اب میں آپ کے سامنے احادیث مبارکہ کی روشنی میں صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی عظمت بیان کرنا چاہتا ہوں اب میں احادیث مبارکہ کے حوالے سے صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا مقام بیان کرنا چاہتا ہوں اب میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں کہ حدیث پاک میں صدیق اکبر کا مقام کیا ہے؟ حدیث پاک میں صدیق اکبر کی کیا عظمت بیان ہوئی ہے۔ بے شمار احادیث کریمہ صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی عظمت کی گواہی دیتی ہے۔ مشکوۃ شریف کی ایک حدیث میں آپ کے سامنے پیش کرتا ہوں اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا مَا نَفَعَنِى ما لُ اَحَدٍ قَطُّ مَا نَفَعَنِى مَالُ أَبِي بَكْرِط یعنی کسی شخص کے مال نے مجھے اتنا فائدہ نہیں پہنچایا، کسی شخص کے مال نے مجھے اتنا لفع نہیں پہنچا یا یا کسی شخص کے مال سے مجھے اتنا فائدہ نہیں ملا جتنا فائدہ ابوبکر کے مال نے مجھے پہنچایا۔ حضور سرور کائنات ﷺ ارشاد فرماتے ہیں اے صدیق اکبراے میرے دوست اے میرے ہجرت کے ہمسفر أَنتَ صَاحِبِي فِي الْغَارِ وَصَاحِبِى عَلَى الْحُوْضِ غار ثور میں تم میرے ساتھ رہے اور حوض کوثر پر بھی تم میرے ساتھ رہو گے یعنی دنیا میں بھی تم میرے ساتھ ہو آخرت میں بھی تم میرے ساتھ رہو گے۔ اللہ کے رسول ﷺ نے اس حدیث پاک میں سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو دو جگہ اپنا ساتھی قرار دیا دو جگہ اپنا ساتھی بنایا دو جگہ اپنا ہمدم قرار دیا ایک غار ثور ہے اور ایک حوض کوثر ہے ایک کا تعلق دنیا سے ہے اور دوسرے کا تعلق آخرت سے ہے یعنی اللہ کے رسول دنیا والوں کو بتانا چاہتے ہیں کہ صدیق اکبر صرف دنیا میں میرے ساتھی نہیں ہیں بلکہ دنیا میں بھی میرے ساتھی ہیں اور آخرت میں بھی میرے ساتھی ہیں۔ ترندی شریف کی حدیث ہے ام المؤمنین ہم تمام مسلمانوں کی ماں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان فرماتی ہیں کہ میرے والد گرامی ، میرے ابا حضور، میرے پدر بزرگوار، حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ، بارگاہ رسالت ﷺ میں حاضر ہوئے تو آقائے دو جہاں ﷺ نے ارشاد فرمایا اے ابوبکر انت عتيق اللهِ مِنَ النَّارِ تجھے اللہ تبارک و تعالیٰ نے جہنم کی آگ سے آزاد کیا جہنم کی آگ سے چھٹکارا دیا جہنم کی آگ سے رستگاری دی ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں اس دن سے میرے والد گرامی کا نام ”عتیق“ پڑ گیا۔ محترم حاضرین مجلس ! ایک حدیث ابوداؤد شریف کی سن لیجیے سرور کائنات ﷺ نے سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ سے مخاطب ہو کر فرمایا أَمَا إِنَّكَ يَا أَبَا بَكْرٍ اَوَّلُ مَنْ يَدْخُلَ الْجَنَّةَ مِنْ أُمَّتِي، اے میرے دوست سن لو! اے میرے یار غارسن لو! اے میرے عاشق سن لو ! اے میرے چاہنے والے سن لو! اے مجھ پر اپنا مال و جان نچھاور کرنے والے سن لو! میری امت میں سب سے پہلے تم جنت میں جاؤ گے۔ میری امت میں سب سے پہلے تمھارا قدم جنت میں داخل ہوگا۔ میری امت میں سب سے پہلے جنت میں داخل ہونے والوں میں تم ہو گے۔ تاریخ الخلفا میں ہے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اعظمﷺ نے ارشاد فر ما یا صدیق اکبر سے الفت کرنا صدیق اکبر سے محبت کرنا اور ان کا شکر یہ ادا کرنا میری پوری امت پر واجب ہے۔ حضرت ابو درداء رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں سرور کائنات ﷺ کی بارگاہ اقدس میں حاضر تھا کہ اتنے میں سید ناصدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ تشریف لائے اور حضور کی بارگاہ میں سلام پیش کرنے کے بعد عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیک وسلم میرے اور عمر کے درمیان کچھ باتیں ہوگئی ہیں میرے اور عمر کے درمیان کچھ کہا سنی ہوگئی ہے ہم دونوں کے درمیان کچھ نا راننگی ہو گئی ہے پھر میں نے نادم ہو کر ان سے معافی مانگی میں نے شرمندہ ہو کر ان سے معذرت چاہی میں ان سے معافی کا طلبگار ہوا لیکن انھوں نے معذرت قبول کرنے سے انکار کر دیا ہے یہ سن کر سرور کائنات ﷺ نے تین بار ارشاد فرمایا اے ابو بکر اللہ تعالیٰ تم کو معاف فرمائے۔ اسی درمیان حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی بارگاہ نبوی میں تشریف لائے ان کو دیکھتے ہی حضور سرور کائنات ﷺ کے چہرہ انور کا رنگ بدل گیا۔ حضور ﷺ کو رنجیدہ دیکھ کر حضرت عمر دوزانو ہوکر بیٹھ گئے اور عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیک وسلم ان سے زیادہ میں قصور وار ہوں۔ تاجدار عرب و عجم ﷺ نے فرمایا جب اللہ تعالیٰ نے مجھے تمہاری جانب مبعوث فرمایا تو تم لوگوں نے مجھے جھٹلایا میری نبوت کا انکار کیا میری رسالت کو تسلیم نہیں کیا میرے رسول ہونے کو نہیں مانا میرے نبی ہونے سے انکار کئے مگر ابوبکر نے میری تصدیق کی۔ ابوبکر نے مجھے نبی تسلیم کیا ابوبکر نے مجھے رسول مانا۔ ابوبکر مجھ پر ایمان لائے ، اپنی جان و مال سے میری مدد کی ، اپنی جان و مال مجھ پر نچھاور کیا ، اپنی دھن دولت مجھ پر قربان کیا۔ کیا آج تم لوگ میرے ایسے دوست کو چھوڑ دو گے؟ کیا آج تم لوگ میرے ایسے چاہنے والے کو چھوڑ دو گے؟ حضور ﷺ نے اس جملہ کو دوبارہ ارشاد فرمایا۔ تمہاری حیثیت کیا ہے حضور پرنورسید عالم ﷺ سید ناصدیق اکبر کو کتنا چاہتے تھے حضور صدیق اکبر سے کتنی محبت فرماتے تھے اس واقعہ سے آپ کو اندازہ ہو جائے گا۔ ” تاریخ الخلفا میں ہے کہ حضرت مقدام رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ابوطالب کے بیٹے حضرت عقیل نے کچھ سخت کلامی سے پیش آیا لیکن صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرت عقیل کو اس لئے کچھ نہ کہا کہ آپ حضور ﷺ کے رشتہ دار ہیں۔ حضور ﷺ کے قرابت دار ہیں حضور ﷺ کے چچا کے بیٹے ہیں صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بارگاہ رسالت میں حاضر ہوئے اور پورا واقعہ حضور کے سامنے پیش کر دیا۔ پورا واقعہ سننے کے بعد تاجدار مدینہ ﷺ مجلس میں کھڑے ہوئے اور تمام حاضرین مجلس سے مخاطب ہوکر فرمایا اے لوگوسن لو! میرے دوست کو میرے لئے چھوڑ دو۔ میرے صدیق کو میرے لئے چھوڑ دو تمہاری حیثیت کیا ہے؟ اور ان کی حیثیت کیا ہے؟ تمہارا وقار کیا ہے؟ اور ان کا وقار کیا ہے؟ تمہارا مقام کیا ہے؟ اور ان کا مقام کیا ہے؟ تمہیں کچھ پتہ ہے تمہیں کچھ اندازہ ہے؟ تمہیں کچھ معلوم ہے؟ خدا کی قسم تم لوگوں کے دروازے پر اندھیرا ہے اور صدیق کے دروازے پر نور کی بارش ہورہی ہے خدائے وحدہ لاشریک کی قسم ! رب ذوالجلال کی قسم ! تم لوگوں نے مجھے جھٹلایا تم لوگوں نے میری نبوت کو جھٹلایا تم لوگوں نے میری رسالت کا انکار کیا لیکن ابوبکر نے میری تصدیق کی ابوبکر نے مجھ پر ایمان لایا ابوبکر نے مجھے رسول مانا۔ ابوبکر نے میری رسالت کا اقرار کیا ابوبکر نے میری نبوت کا اقرار کیا۔ تم لوگوں نے اپنا مال خرچ کرنے میں بخل سے کام لیا۔ تم لوگوں نے اپنا مال خرچ کرنے میں کنجوسی کی ۔ تم لوگوں نے اپنا مال خرچ کرنے میں کوتاہی کی۔ میرے صدیق نے مجھ پر اپنا مال خرچ کیا میرے صدیق نے مجھ پر اپنا مال خرچ کرنے میں کنجوسی نہیں کی میرے صدیق نے مجھ پر اپنا مال خرچ کرنے میں بخل سے کام نہیں لیا میرے صدیق نے مجھ پر بے تحاشہ مال خرچ کیا اور تم لوگوں نے میری مدد نہیں کی مگر ابو بکر نے میری غمخواری کی میری اتباع کی اور میری مدد کی۔ پوری زندگی کا عمل معزز حاضرین مجلس ! مشکوۃ شریف میں ہے کہ ایک دن حضرت فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے سامنے حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا تذکرہ کیا گیا تو آپ رونے لگے آپ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے آپ نے روتے ہوئے فرمایا تاجدار مدینہ ﷺ کی حیات ظاہری میں صدیق اکبر رضی اللہ تعالٰی عنہ کے ایک دن کا عمل اور ایک رات کا عمل کاش میری پوری زندگی کا عمل اس کے برابر ہو جاتا میری پوری زندگی کا عمل ان ایک دن اور ایک رات کے عمل کے برابر نہیں ہو سکتا لوگوں نے عرض کیا امیر المؤمنین صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا وہ کو نسا عمل ہے؟ جس کے بارے میں آپ فرماتے ہیں کہ میری پوری زندگی کا عمل اس کے برابر نہیں ہو سکتا۔ حضرت فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے روتے ہوئے جواب دیا سنو! صدیق اکبر کی ایک رات کا عمل تو یہ ہے کہ جب سرور کائنات ﷺ مکہ سے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کے لئے نکلے اور رات کی تاریکی میں اپنے حبیب کے ہمراہ غار ثور پر پہنچے تو عشق رسول میں ڈوب کر آپ نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیک وسلم وَ اللَّهِ لَا تَدْخُله حَتَّى اَدْخُلَ قَبلَكَ ، صدیق اکبر نے عرض کیا یا رسول اللہ خدا کی قسم آپ کو غار میں داخل نہیں ہونے دوں گا یا حبیب اللہ غار میں آپ پہلے داخل نہیں ہوں گے، یا نبی اللہ غار میں آپ پہلے تشریف نہیں لے جائیں گے سب سے پہلے غار میں میں داخل ہوں گا، سب سے پہلے غار میں میں جاؤں گا تا کہ اگر غار میں کوئی موذی جانور ہو تو مجھے تکلیف پہنچے اور آپ محفوظ رہیں اگر غار میں کوئی زہریلا جانور ہو تو مجھے گزند پہنچے اور آپ سلامت رہیں اگر غار میں کوئی سانپ ہو تو مجھے ڈنک مارے آپ کو تکلیف نہ ہو اگر غار میں کوئی بچھو ہو تو مجھے کاٹے اور آپ سلامت رہیں پھر حضور ﷺ کے داخل ہونے سے پہلے صدیق اکبر اس غار میں داخل ہوئے غار کو خوب صاف ستھرا کیا کہ میرے محبوب یہاں آرام فرمانے والے ہیں غار کی خوب صفائی کی کہ عرش میں تشریف لے جانے والے یہاں آرام فرما ئیں گے غار کو خوب سے خوب صاف کیا کہ محبوب خدا یہاں آرام فرمانے والے ہیں اور اس غار کے اندر جتنے سوراخ تھے ہر سوراخ کو اپنی لنگی پھاڑ کر بند کر دیا تا کہ اس سوراخ سے کوئی زہریلا جانور سانپ وغیرہ مختار دو عالم کو تکلیف نہ پہنچائے جب کپڑ ا ختم ہو گیا اور ایک سوراخ باقی رہ گیا تو دل میں عشق رسول مچلنے لگا اور آپ نے اپنی ایڑی کو اس سوراخ پر رکھ دیا اس کے بعد رسول اکرم ﷺ سے عرض کیا یا رسول اللہ آپ اندر تشریف لائیں حضورﷺ اس غار میں تشریف لائے اور صدیق اکبر کی گود میں سر رکھ کر سو گئے ابھی حضورﷺ آرام ہی فرما رہے تھے اس حالت میں صدیق اکبر کے پاؤں میں سانپ نے کاٹ لیا آپ نے حرکت نہیں کی تاکہ رسول کے آرام میں خلل نہ پڑے اور آپ کی آنکھ نہ کھل جائے لیکن سانپ کے زہر کی تکلیف کی جہ سے صدیق اکبر کی آنکھوں میں آنسو آگئے اور وہ نایاب آنسو کے قطرے حضور ﷺکے چہرہ اقدس پر گرے اور حضورﷺ کی آنکھ کھل گئی۔ حضورﷺ نے دریافت فرمایا اے میرے دوست کیا ہوا ؟ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ لُدِغُتُ فِدَاكَ آبِى وَأُمّي ، اے اللہ کے رسول میرے ماں باپ آپ پر قربان ، مجھ کو سانپ نے کاٹ لیا سرور کائنات ﷺ نے ان کے زخم پر اپنا لعاب دہن لگا دیا فوراً تکلیف دور ہوگئی۔ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا دوسرا عمل یہ ہے کہ نبی رحمت ﷺ کی وفات کے بعد عرب کے کچھ لوگ مرتد ہو گئے اور انھوں نے کہا ہم زکوۃ نہیں دیں گے ہم زکوۃ ادا نہیں کریں گے اور زکوۃ کی فرضیت کے منکر ہو گئے تو حضرت صدیق اکبر نے ارشاد فرمایا کہ اگر مجھے کو اونٹ کی رہی جو لوگوں پر واجب ہوگی اور دینے سے انکار کریں گے میں اس سے بھی جہاد کروں گا حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا اے امیر المومنین لوگوں کے ساتھ الفت اور نرمی سے کام لیجے تو صدیق اکبر نے ارشاد فرمایا تم ایام جاہلیت میں بڑے سخت اور غضبناک تھے کیا اسلام میں داخل ہو کر پست ہمت ہو گئے ۔ میں اسلام کو اپنی زندگی میں ہرگز کمزور نہیں ہونے دوں گا اور جو لوگ زکوۃ سے انکار کر رہے ہیں میں ان سے ضرور جہاد کروں گا۔ عشق اور عقل برادران اسلامیہ! آپ نے ابھی ملاحظہ فرمایا کہ غار ثور میں صدیق اکبر کی گود سرور کائنات ﷺ کا سرہانہ بن گئی صدیق اکبر کی گود تا جدار عرب بحجم ﷺ کا تکیہ بن گیا کتنی مقدس ذات ہے صدیق اکبر کی اور کتنی مقدس ہے صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی گود مبارک۔ جن کے قدم مبارک کو حضرت جبرئیل امین بوسہ لیں ان کا سر اقدس صدیق اکبر کی گود میں، جن کی سواری براق ہے ان کا سرا قدس صدیق اکبر کی گود میں ۔ جو سیاح لا مکاں ہو ان کے سر اقدس کے لئے صدیق اکبر کی گود تکیہ بنے۔ جو انبیاء و مرسلین کی امامت فرمائیں ان کا سر مبارک صدیق اکبر کی گود میں ۔ جن کے نعلین پاک عرش اعظم پر جائے ان کا سر مبارک صدیق اکبر کی گود میں ہو وہ کتنا حسین لمحہ ہے دو کے علاوہ تیسر انہیں آقا سور ہے ہیں آقا آرام فرما رہے ہیں آقا استراحت فرمارہے ہیں غلام اپنی گود کو تکیہ بنادیا ہے۔ محترم سامعین کرام ! ایک نکتہ آپ کے سامنے بیان کرنا چاہتا ہوں عشق اور عقل دونوں الگ الگ چیزیں ہیں دنوں کی منزلیں الگ الگ ہیں دونوں کے راستے الگ الگ ہیں دونوں کے خیالات الگ الگ ہیں دونوں کے مقام الگ الگ ہیں جہاں عقل کا مقام ختم ہوتا ہے وہاں عشق کا مقام شروع ہوتا ہے غار ثور کا واقعہ ملاحظہ فرمائیے وہاں پر یہی ہو عشق اور عقل کی جنگ ہو گئی عشق اور عقل کی لڑائی شروع ہو گئی عشق اور عقل کی بحث شروع ہو گئی عقل نے صدیق اکبر سے کہا اپنا پاؤں سوراخ پر مت رکھو کوئی زہریلا جانور آپ کو کاٹ لے گا عقل نے کہا اپنا پاؤں سوراخ پر مت رکھو کوئی سانپ آپ کو ڈس لے گا عقل نے کہا یہ کہاں کی سمجھداری ہے کہ جان بوجھ کر سانپ کے منہ میں ہاتھ ڈالا جائے عقل نے کہا یہ کہاں کی عقل مندی ہے کہ جان بوجھ کر اپنی جان کو تکلیف میں ڈالا جائے عشق نے کہا اپنا پاؤں سوراخ پر رکھ دو عشق نے کہا اپنی جان کی پرواہ نہ کرو عشق نے کہا اپنی تکلیف کو نہ دیکھو عشق نے کہا زہر کی پرواہ نہ کر وہ عشق نے کہا اپنے محبوب کو دیکھو، اپنی جان جائے تو چلی جائے لیکن محبوب کے جسم میں آنچ نہ آنے پائے عشق نے کہا اگر تجھے محبت کا دھوئی ہے اپنے جسم پر تکلیف گوارہ کر لو لیکن محبوب کو تکلیف نہ پہنچنے دو یہ عشق اور عقل کی لڑائی میں صدیق اکبر نے عشق کا ساتھ دیا اور عقل کو ٹھکرا دیا اور اپنے پاؤں مبارک کو سوراخ پر رکھ دیا اور دنیا والوں کو بتا دیا کہ دیکھو میں عشق رسول میں سانپ کے ڈنک کو برداشت کر سکتا ہوں لیکن میں اپنے محبوب کو تکلیف پہنچنے نہیں دے سکتا۔ وفات صدیق حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میرے والد گرامی حضرت صدیق کبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بیماری کی ابتدا اس طرح ہوئی کہ آپ نے سے جمادی الآخر پیر کے روز غسل فرمایا اس روز ٹھنڈک بہت زیادہ تھی آپ کے جسم میں ٹھنڈک کا اثر آ گیا پھر آپ بخار میں مبتلا ہو گئے اور آپ پندرہ روز تک بیمار رہے اسی حالت میں ۶۳ سال کی عمر میں ۲۲ جمادی الآخر ۱۳ ھ کو آپ وفات پائے۔ سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے وفات سے پہلے یہ وصیت فرمائی تھی کہ میرے تابوت کو حضور اقدس ﷺ کے روضہ اقدس کے پاس رکھ دینا اور السلام عليك يا رسول الله کہ کر عرض کرنا کہ آقا ابو بکر آپ کے آستانہ عالیہ پر حاضر ہے اگر اجازت ہوئی تو روضہ کا دروازہ کھل جائے گا اور مجھے حضور ﷺ کے پہلو میں دفن کر دینا ورنہ جنت البقیع میں دفن کر دیناراوی کا بیان ہے کہ حضرت ابوبکر کی وصیت پر عمل کیا گیا ابھی وہ کلمات ختم بھی نہ ہوئے تھے کہ روضے کا دروازہ کھل گیا اور آواز آئی حبیب کو حبیب کی طرف لے آؤ۔ محترم حضرات! یہ ہے مقام صدیق اکبر ، یہ ہے عظمت صدیق اکبر، اللہ تعالیٰ ہم سبحوں کو صدیق اکبر کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین وَمَا عَلَيْنَا إِلَّا الْبَلٰغَ